Thursday, August 31, 2023

میکلوڈ گنج کی تاریخ کا ایک تاریک باب۔جب مفاد پرستوں نے میکلوڈ گنج کے اجتماعی مفادات پر کاری ضرب لگائی۔


روزنامہ پاکستان میں 23سال قبل لکھا گیا میرا ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیں اس مکتوب میں خاص بات یہ ہے کہ اس تحریر میں سیوریج کے کنوؤں کا بھی سرسری طور پر ذکر کیا گیا ہے اس سیوریج سکیم کا احوال یہ تھا کہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے اس منصوبے کو شروع کیا گیا اور اس منصوبے کا ٹھیکدار بہاولنگر کا رہائشی منظور احمد ٹوبہ نامی شخص تھا ۔

ابتدائی مرحلوں ہی میں حرام خوری کا آغاز کردیا گیا زیر زمین لائنوں اور سیوریج کا پانی اکٹھا کرنے والے کنوؤں کو بھی ناقص میٹریل سے تعمیر کیا جانے لگااس کی نشان دہی کی گئی تو اس کے نتیجہ میں کام بند ہوا ناقص مٹیریل سے بنائے گئے کنوؤں کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم ہوا۔

 

 کام کی نگرانی میں اے سی صاحب کی سرپرستی میں ایک نگران کمیٹی کا بھی اعلان ہوا ٹھیکدار صاحب نے جو لالچ دینے تھے وہ دے لئے جب کچھ نہ بنا تو پھر چند ایک کرائے کے ٹٹوؤں کو خریدا گیا اس وقت ناقص مٹیریل سے تعمیر ہونے والا ایک کنواں گرایا بھی جا چکا تھا جوناقص میٹریل سے تیار ہوا تھا۔

 کرائے کے ٹٹوؤں کو کافی منت سماجت کی گئی کہ اہلیان میکلوڈگنج کے لئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے آج  اگر یہ درست طور پر نہ بنا تو پھر کبھی بھی نہیں بن سکے گا تمام شہری اس منصوبے کی نگرانی کریں مگر ٹٹوؤں کی طرف سے مزاحمت بڑھتی گئی خیر گدھوکا فیملی کے اس وقت کے سابق ایم پی ا ے نے مجھے بلایا اور اتنا ہی کہا کہ بیٹا اگر شہردار ہی شہر کی بہتری نہیں چاہتے تو پھر انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ دینا چایئے۔

 آپ بھی پیچھے ہٹ جائیں میں یہ بات سن کر اور پلے باندھ کرواپس پلٹ آیا اس کے بعد ٹٹوؤں اور ٹھیکدار کی من ما نیاں شروع ہو گئیں اور وہ منصوبہ ابھی تک شہریوں کے گلے کی ہڑی بنا ہوا ہے۔

 اب تو اس کے آثار بھی باقی نہیں رہے نکاسی آب کا خاطر خواہ انتظام ابتک شہریوں کو میسر نہ آسکا نالیاں گندے پانی سے ابل کر گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں جب کہ راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے مجھے تو ابھی تک یہی ہی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ابھی بھی سال 2000 ہی میں جی رہے ہیں۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ    زکوٰۃ   کمیٹی کے ایک چئیرمین صاحب بینک میں موجود ہیں اس وقت بینک لاری اڈہ   کے بلکل مغربی جانب تھا اور زکوۃ  کی رقم کا چیک اپنی بیوی کے نام پر کاٹ کر خود ہی بینک سے رقم نکلوانے کے لئے موجود ہیں کہنے کی بات صرف یہی ہی ہے کہ اب وہ میاں بیوی دونوں اس جہان میں نہیں ہیں(خدا انہیں غریق رحمت فرمائیں) اور وہ بہتر معاف فرمانے والا ہے یا رحیم ہم پر اپنا رحم فرما۔ 

 

 

انتخابات:سیاسی صورت حال کی کوریج


 

میکلوڈ گنج کے کسانوں کی حالت زار کے متعلق


 

میکلوڈ گنج کے مسائل کا بیان: میاں سردار خاں وٹو ایم پی اے تھے

 


پرائویٹ سکولز اور دھندہ


 

میکلوڈ گنج کے کاشتکار شروع سے ہی مختلف مافیاز کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔


 

کاشتکاروں کے مسائل


 

ڈیڑھ صدی پرانا علاقہ میکلوڈ گنج ہمیشہ مسائل کا شکار رہا۔


 

میکلوڈ گنج کے کچھ علاقوں میں نہری پانی کی عدم دستیابی سے متعلقہ مسائل کی نشان دھی۔


 

میکلوڈ گنج کے کھاد مافیا کی کارستانیاں


 

میکوڈ گنج کے نوجوانوں کی بے روزگاری کے متعلق ایک تحریر


 

سیاستدانوں کی ناکامیوں اور مشرف کے فوجی اقدام کے متعلق ایک پرانی تحریر


 

تھانہ کچہری کلچر کے خلاف ایک پرانی تحریر


 

میکلوڈ گنج کی تاریخ اور مسائل سے متعلق تحریر۔


 

کسانوں کے مسائل:صحافتی سفر میں کسانوں ایسے محروم طبقات کے لئے ہمیشہ آواز اٹھانے کی کوشش کی۔سن دو ہزار کی ایک تحریر


 

جب ہم نے میکلوڈ گنج میں سیوریج کا کرپشن سکینڈل بے نقاب کیا۔


 

ہم نے سیاسی،اجتماعی،معاشرتی اور معاشی حرکیات کے پر لمحے کی صورت حال کو تاریخ کا حصہ بنایا ہے۔


 

دو ہزار چھ کی مزدوروں اور کسانوں کے مسائل سے متعلق ایک تحریر۔


 

ایک پرانی تحریر میں میکلوڈ گنج کے مسائل،جغرافیہ اور تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔


 

میکلوڈ گنج کے بنیادی مسائل اور بڑے سیاستدانوں کی علاقہ کی نسبت بے اعتنائی کے متعلق دو ہزار دو کی ایک تحریر

 


دو ہزار دو کے انتخابات میں کالو کا خاندان کی جیت پر غیر جانبدارانہ تحریر


 

زرعی بنکوں کے قرضوں کے شکنجوں کے متعلق 2005 کی ایک تحریر۔


 

جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کے مسایل سے متعلق 2010 کی ایک تحریر۔


 

تین دہائیوں پر محیط میکلوڈ گنج کی سیاسی حرکیات کو ہم نے تاریخ کا حصہ بنایا۔


 

میکلوڈ گنج:سیلاب متاثرین حکومتی توجہ کے منتظر



میکلوڈگنج(غلام حسین شاہد سے)دریائے ستلج میں ابھی تک نچلے درجے کی سیلاب کی کیفیت برقرار ہے اس وقت بھی ہیڈ سلیمانکی سے 81000 ہزار کیوسک پانی کا اخراج ہورہاہے ۔

 بدترین سیلاب نے ہزاروں افراد کے گھر اور مال مویشیوں کو دریابرد اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی دھان اور تل کی فصلوں کو تباہ وبرباد کردیا ہے خاندانوں کے خاندان پل بھر میں شاہ سے گدا ہو گئے ہیں نہ انکی چھت رہی اور نہ ہی پیٹ بھرنے کے لئے وسائل دستیاب رہے ایک بڑی مصیبت ہے جس کا انہیں سامنا ہے سیلاب زدگان کی قیمتی املاک اور مال مویشی سب پانی کی نظر ہوچکے ہیں بس حسرتیں باقی ہیں جو انکا کلیجہ چیرنے کے لئے موجود ہیں۔

 بستیوں کی بستیاں سیلابی پانی میں غرق ہو گئی ہیں جبکہ کئی جانیں بھی سیلاب کی نظر ہو چکی ہیں روزنامہ پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں دوناں قطب ساڑھو،حسین شاہ،لالہ امر سنگھ،بھونڈی،اعظم چھینہ،وزیرہ گدھوکا علی پور باٹھیکا اور رتیکا کے دیگر مضافاتی علاقوں کا دورہ کیا۔

 ان سیلابی علاقوں میں  تاحد نگاہ   تباہی ہی تباہی ہے 1988کے بعد یہ بہت بڑا سیلاب ہے جس نے وسیع پیمانے پر بہت بڑا نقصان کیا ہے سیلاب نے سب کچھ نیست ونابود کردیا ہے کئی خاندان ابھی تک پانی میں موجود ہیں جنہیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

 بہت سے لوگ ابھی تک پانی میں گھرے ہوئے ہیں اور وہیں مشکل میں اپنا گزر بسر کررہے ہیں انکا یہی کہنا ہے کہ یہاں سے چھوڑ کر ہم جائیں تو کہاں جائیں۔

 نگران وزیراعلی پنجاب سید محسن نقوی کے متوقع دورہ کے پیش نظر انتظامیہ نے ان کے لئے سیلابی علاقوں سے کافی دور گورنمنٹ بوائز ہائراسکینڈری سکول میکلوڈگنج میں خصوصی کیمپ بھی لگا رکھا ہے کہ جب وہ میکلوڈگنج اور منچن آباد کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے آئیں تو اصل سیلاب متاثرین  سے انکی ملاقاتیں کرانے کی بجائے اپنے  سکھائے  ہوئے بندوں ہی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ انتظامیہ کی کارکردگی کا آئینہ وہ اپنی انکھوں سے نہ دیکھ سکیں ۔

اس کیمپ کے قیام سے انتظامیہ کو شہریوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور اسے محض پیسہ کا ضیاع قرار دیا جا رہا  ہے سیلاب متاثرین نے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی جانب سے انکی مناسب مدد نہ کرنے کی شکایات بھی کی ہیں اور جہاں کہیں سرکاری ریلیف کیمپ موجود بھی ہیں تو وہاں سیلاب متاثرین بلکل نظر نہیں آتے اور کیوں نظر نہیں آرہے اس کی  کھوج بھی لگانا ضروری ہے سیلاب متاثرین  کے مطابق صرف فوٹو سیشنز ہی سے کام چلایا جارہا ہے اور سب اچھا کی رپورٹس بنائی جارہی ہیں ابھی تک دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے سیلاب متاثرین  کی ترجیحی  بنیادوں پر ریلیف کو یقینی بنائے تاکہ سیلاب متاثرین عزت سے مصیبت کے یہ دن گزار سکیں ۔

 


معاشرے کے انحطاط میں ہمارے منفی رویوں کا کردار


اس وقت ہمارا معاشرہ جس انحطاط پزیری کا شکار ہے اب اس کی اصلاح ممکن نہیں رہی،اگر آپ حق اور سچ کی بات کریں گے تو پھر اس کے نتائج بھی بھگتنے کے لئے تیار رہیں ایک چور کی بات کریں گے تو اس  سےبھی بڑے دس چور اس کی حمایت کے لئے نکلیں گے ۔

چوروں کا سامنا کرنے کے  لئے بھی آپ میں سکت باقی نہیں رہے گی اس معاشرے میں ہم سب چور ہیں کوئی بڑا چور ہے اور کوئی چھوٹا،اندک جو بڑا چور ہوگا اس کے لئے اس کی جھوٹی پارسائی  کافی ہوگی اور سارے عتاب بس چھوٹے چور ہی کے لئے ہی ہوں گے۔

 جیسا کہ آج کل ہماری آنکھوں کے سامنے ہو بھی رہا ہے مہذب معاشی ڈکیت ہمارے معاشرے کے معتبر ہیں اور حق سچ والوں کی کوئی وقعت یا حیثیت نہیں اب معزز ہونے کا ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ ہے مال وزر کا ۔ جس قدر آپ مال ودولت والے ہوں گے اسی قدر آپ کا قد کاٹھ بھی بڑا ہو گا۔

 

 اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف تو یہ جو آپ تصاویر دیکھ رہے ہیں ایک تصویر قبرستان والے آر او پلانٹ کی ہے جس کی موٹر اور شمسی پلیٹیں تک چوری کی جا چکی ہیں اب یہ بند پڑا ہے اور کیوں بند پڑا ہے تو یہ عنصر بھی ہم میں کسی زہر کی طرح سرایت     پذیر ہو گیا ہے کیونکہ اس کے بناتے وقت حرام کا مال کھانا تھا سو اسی سوچ پر اسے بنا تو دیا گیا اب کہیں سے حرام نہ ملنے کے کوئی مواقع موجود نہیں تو یہ بھی بند ہو گیا اور کہیں سے اگر مسلسل حرام ملتا رہتا تو پھر یہ کبھی بھی بند نہ ہوتا۔

دوسری تصویر سرکاری کوارٹر کی ہے جس کے صحن پر بھی قبریں بنادی گئیں ہیں اور کیوں بنائی گئی ہیں کہ یہاں کوئی قبرستان کی رکھوالی کے لئے رہ نہ سکے۔دیگر تصویریں بجلی کے پول کی ہیں جہاں سے ساری تار کو بھی کاٹ لیا گیا ہے اور اس کے تمام بورڈز کو بھی اکھاڑ لیا گیا ہے خدا بس ہم پر اپنا رحم ہی کرے  وہ بہت ہی رحیم ہے۔ 











 

Wednesday, August 30, 2023

میکلوڈ گنج کے دو مرکزی سیاسی خانداںوں کی سیاسی تاریخ کے متعلق حقیر کی ایک تحریر1999




 

پاکستانی سیاست کے ایک اہم کردار مرحوم اصغر خان کا 1999 میں منڈی صادق گنج میں خطاب اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بیان

 


کھاد مافیا کے ہتھکنڈوں سے متعلق 2001 میں چھپنے والی میری ایک خبر اور موجودہ حالات


جہاں ہم پہلے 2001میں کھڑے تھے آج2023 میں بھی وہیں پہ کھڑے ہیں بلکہ حالات اس سے بھی زیادہ گھنمبیر ہیں قدم قدم پر مافیاز وجود میں آچکے ہیں اب ان پر ہاتھ ڈالنا ہمارے قانون کے بس میں نہیں رہا یہ تو صرف انہیں دبوچتا ہے جس کا خدا کے سوا کوئی نہیں ہوتا ۔

اب جزا اور سزا کا تصور بھی ختم ہو چکا ہے اب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تیل کو دیکھ لیں عوام ذلیل ہوتے ہیں معاشی ڈاکو ڈریکولوں کی طرح عوام کو بلا خوف وخطر لوٹتے ہیں اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا بس جنگل کے اس قانون میں غریب عوام پہلے بھی معاشرے کے ایسے انتہائی مہذب معاشی ڈکیتیوں کے ہاتھوں دن دیہاڑے اور سرعام لٹتے رہے ہیں اور یقینا ائندہ بھی لٹتے رہیں گے۔   


:

 

 

نہر فورڈواہ میکلوڈ گنج کرپٹ سرکاری اہلکاروں کی سربراہی میں پانی چوری کا سلسلہ جاری

قانون کی نظر میں نہری پانی کی چوری ایک قومی جرم ہے اور ایسا صرف کاغذات کی حد تک ہی ہے اس وقت امروکا سیکشن اور احمد پور میکلوڈ گنج میں پانی چوری کے دھندے عام ہیں تمام چھوٹی بڑی نہروں سے بھاری رشوت کے عوض پانی چوری کروایا جارہا ہے پانی کی رکھوالی پر بے ایمان تعینات ہیں گویا دودھ کی راکھی پر بلوں کو بٹھا دیا گیا ہے؟ 



میکلوڈ گنج کے مسائل سے متعلق 2002 میں روزنامہ پاکستان کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر

 

1990 سے روزنامہ پاکستان میں حقیر کی سیاسی سماجی وعوامی مسائل پر ہزاروں خبریں شامل اشاعت ہو چکی ہیں اس کے علاوہ سینکڑوں مکتوبات ڈائریاں اور سروےرپورٹس الگ ہیں جن کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے بعض   دوست   احباب کی پرزور فرمائش پر انشاءاللہ گاہے بگاہے آپ کے ساتھ شئیر کرتا رہوں گا۔

بیس پچیس سال پہلے والی خبر یا مکتوب پر اگر نظر ثانی فرمائیں تو ایسا ہی لگتا ہے کہ جیسے بیس پچیس سال پہلے جس طرح کے مسائل سے ہمارا سامنا تھا ویسے ہی اب بھی ہے تو گویا ہم وہاں ہی کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے اس کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے کہ ذمہ دار اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طریقے سے نہیں نبھا سکے اور اپنی اصل راہ سے ہٹ گئے۔

 اب ہمارے سامنے وسائل ہی وسائل ہیں کوئی بھی اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھانے کے لئیے تیار نہیں بس پیسہ آنا چاہیے چاہے وہ حلال کا ہو یا حرام کا اس سے کوئی سروکار نہیں آج عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے اس طرح کا ماضی میں نہیں رہا پٹرول مافیا اور کھاد مافیا کو دیکھ لیں سب اپنی اپنی من مانیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔

 لاتعداد مسائل نے غریب لوگوں سے انکے جینے کا حق تک چھین لیا ہے بجلی ہی کی قیمت کو دیکھ لیں کہاں سے کہاں تک پہنچا دی گئی ہے کیا حکومتوں کو بجلی کھاد اور تیل کی قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوتا کہ جب چاھیں اپنی عیاشیوں کا سامان پیدا کرنے کے لئیے سارا بوجھ غریبوں ہی کی کمر پر لاد دیں آخر کیوں؟4مارچ2002میں شامل اشاعت ہونے والا میرا مکتوب ملاحظہ فرمائیں اور آپ یوں محسوس فرمائیں گے کہ آج بھی ہمیں انہی مسائل ہی سے سامنا ہے جس سے 2002میں دوچار تھے!

 

 


Wednesday, August 23, 2023

سیلاب نے پانی چوروں کا کاروبار ٹھپ کر دیا

سیلابی ریلے کی وجہ سے نہر فورڈواہ بند کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے محکمہ انہار کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں کا  کام مانند پڑگیا ہےاس لئے کہ یہ لوگ سال بھر کروڑوں روپے کا پانی چوری کرواتے ہیں ۔دوسری طرف زمیندار بھی رشوت دے کر دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اپنی زمینوں کو ناجائز ذریعے سے حاصل کئے گئے پانی سے سیراب کرتے ہیں۔ 

میکلوڈ گنج کے دیہی سیلابی علاقے تصویروں کے آئینہ میں


 


لوگ 1988 کے سیلاب کو بھول گئے۔میکلوڈ گنج کے متعدد دیہی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

دریائے ستلج         میں    آنے والے بدترین سیلاب نے ہزاروں افراد کے گھر اور مال مویشیوں  کو دریابرد اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی دھان اور تل کی فصلوں کو تباہ وبرباد کردیا ہے

 خاندانوں کے خاندان پل بھر میں کنگال ہو گئے ہیں نہ انکی چھت رہی اور نہ ہی پیٹ بھرنے کے لئیے وسائل 

دستیاب رہے۔

 ایک بڑی مصیبت ہے جس کا انہیں سامنا ہے سیلاب زدگان کی قیمتی املاک اور مال مویشی سب پانی کی نظر ہوچکے ہیں۔

 بس حسرتیں ہی باقی رہ گئی ہیں جو انکا کلیجہ چیرنے کے لئے کافی ہیں۔

 بستیوں کی بستیاں اور دیہات کے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں کئی ایک قیمتی جانیں بھی 

ضائع ہو چکی ہیں۔

 آج پھر سیلاب سے متائثرہ علاقوں دوناں قطب ساڑھو،حسین شاہ،لالہ امر سنگھ،بھونڈی،اعظم چھینہ،وزیرہ گدھوکااور علی پور باٹھیکا میں جانا ہوا 

ان علاقوں میں حد نگاہ تک تباہی ہی تباہی ہے 1988کے بعد یہ بہت بڑا سیلاب ہے جس نے وسیع پیمانے پہ تباہی مچائی ہے جس نے سب کچھ نیست ونابود کردیا ہے۔

 کئی خاندان ابھی تک پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے

 اور کئی ابھی تک پانی میں گھرے ہوئے ہیں اتنا بڑا علاقہ پھرنے کے باوجود مجھے تو کہیں بھی کوئی سرکاری اہلکار یا افسر سیلاب زدگان کی مدد کے لئیے نہیں ملا

 ہاں بڑی سڑکوں پر لگثرری گاڑیاں ضرور فراٹے بھرتے نظر آئیں سیلاب متائثرین کو سرکار کی مدد کی ضرورت ہے.

  سرکار صرف سڑکوں پرہی ہوٹر بجاتی نظر آتی ہے اور تکے کباب کھا کر واپس چلی جاتی ہے

  جہاں کہیں کیمپ موجود بھی ہیں وہاں سیلاب متائثرین نظر نہیں آرہے

 اور کیوں نظر نہیں آرہے اس کی کھوج بھی لگانا ضروری ہے صرف فوٹو سیشنوں تک ہی اکتفا کیا جا رہا ہے

 اگر کیمپ محض فرضی بل ہی پاس کرنے کے لئیے لگائے گئے ہیں تو پھر ایسے کیمپوں کو بند کردینا ہی بہتر ہے

میکلوڈ گنج کی تاریخ کا ایک تاریک باب۔جب مفاد پرستوں نے میکلوڈ گنج کے اجتماعی مفادات پر کاری ضرب لگائی۔

روزنامہ پاکستان میں 23سال قبل لکھا گیا میرا ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیں اس مکتوب میں خاص بات یہ ہے کہ اس تحریر میں سیوریج کے کنوؤں کا بھی سرسری...