روزنامہ پاکستان میں 23سال قبل لکھا گیا میرا ایک مکتوب ملاحظہ
فرمائیں اس مکتوب میں خاص بات یہ ہے کہ اس تحریر میں سیوریج کے کنوؤں کا بھی سرسری
طور پر ذکر کیا گیا ہے اس سیوریج سکیم کا احوال یہ تھا کہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی خطیر
رقم سے اس منصوبے کو شروع کیا گیا اور اس منصوبے کا ٹھیکدار بہاولنگر کا رہائشی
منظور احمد ٹوبہ نامی شخص تھا ۔
ابتدائی مرحلوں ہی میں حرام خوری کا آغاز کردیا گیا زیر زمین
لائنوں اور سیوریج کا پانی اکٹھا کرنے والے کنوؤں کو بھی ناقص میٹریل سے تعمیر کیا
جانے لگااس کی نشان دہی کی گئی تو اس کے نتیجہ میں کام بند ہوا ناقص مٹیریل سے
بنائے گئے کنوؤں کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم ہوا۔
کام کی نگرانی میں اے سی
صاحب کی سرپرستی میں ایک نگران کمیٹی کا بھی اعلان ہوا ٹھیکدار صاحب نے جو لالچ
دینے تھے وہ دے لئے جب کچھ نہ بنا تو پھر چند ایک کرائے کے ٹٹوؤں کو خریدا گیا اس
وقت ناقص مٹیریل سے تعمیر ہونے والا ایک کنواں گرایا بھی جا چکا تھا جوناقص میٹریل
سے تیار ہوا تھا۔
کرائے کے ٹٹوؤں کو کافی
منت سماجت کی گئی کہ اہلیان میکلوڈگنج کے لئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے آج اگر یہ درست طور پر نہ بنا تو پھر کبھی بھی نہیں
بن سکے گا تمام شہری اس منصوبے کی نگرانی کریں مگر ٹٹوؤں کی طرف سے مزاحمت بڑھتی
گئی خیر گدھوکا فیملی کے اس وقت کے سابق ایم پی ا ے نے مجھے بلایا اور اتنا ہی کہا
کہ بیٹا اگر شہردار ہی شہر کی بہتری نہیں چاہتے تو پھر انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ
دینا چایئے۔
آپ بھی پیچھے ہٹ جائیں میں
یہ بات سن کر اور پلے باندھ کرواپس پلٹ آیا اس کے بعد ٹٹوؤں اور ٹھیکدار کی من ما نیاں
شروع ہو گئیں اور وہ منصوبہ ابھی تک شہریوں کے گلے کی ہڑی بنا ہوا ہے۔
اب تو اس کے آثار بھی باقی نہیں رہے نکاسی آب کا
خاطر خواہ انتظام ابتک شہریوں کو میسر نہ آسکا نالیاں گندے پانی سے ابل کر گھروں
میں داخل ہو جاتی ہیں جب کہ راوی ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے مجھے تو ابھی تک
یہی ہی محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ابھی بھی سال 2000 ہی میں جی رہے ہیں۔ اس سے کچھ
عرصہ پہلے میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ زکوٰۃ
کمیٹی کے ایک چئیرمین صاحب بینک میں موجود ہیں اس وقت بینک لاری اڈہ کے بلکل مغربی جانب تھا اور زکوۃ کی رقم کا چیک اپنی بیوی کے نام پر کاٹ کر خود
ہی بینک سے رقم نکلوانے کے لئے موجود ہیں کہنے کی بات صرف یہی ہی ہے کہ اب وہ میاں
بیوی دونوں اس جہان میں نہیں ہیں(خدا انہیں غریق رحمت فرمائیں) اور وہ بہتر معاف
فرمانے والا ہے یا رحیم ہم پر اپنا رحم فرما۔







































